بعض متکلمین کہتے ہیں ،انبیاے (سابقین) علیہم الصلوۃ والسلام پر ان کی لغزشوں کے بعد اللہ عزوجل نے عتاب فرمایا ہے لیکن ہمارے نبی ﷺ کو لغزش کے واقعہ ہونے سے پہلے عتاب کیا ہے تاکہ اس کے صدور میں سخت رکاوٹ ہو جائے اور شرائط محبت کی حفاظت بھی ہو۔ (حضور ﷺ پر اللہ عزوجل کا) یہ انتہائی لطف و کرم ہے۔<br /> اس کے بعد اس پر نظر وفکر کرو کہ عتاب اور اس کے خوف کے ذکر سے کہ آپ ﷺ اس کی طرف مائل ہوں ، کس طرح اللہ عزوجل نے ثبات و سلامتی کا ذکر کیا، دوران عتاب ہی میں برکت اور تخویف کے مابین آپ ﷺ کا مامون و محفوظ ہونا آپ کی بڑی بزرگی ہے۔ اسی طرح اللہ عزوجل فرماتا ہے:<br /> ﴿قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ﴾<br /> ہمیں معلوم ہے کہ تمھیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں ، تو وہ تمھیں نہیں جھٹلاتے۔( الانعام:۳۳)<br /><br />کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ<br /> مختصر نام: الشفا شریف <br />مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ<br /> مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ<br /><br />#Shorts<br />#AshShifa<br />#AlShifaShareef<br />#ProphetMuhammad<br />#IslamicKnowledge <br />#ShanEMustafa<br />#SeeratunNabi<br />#Islam<br />#Islamic<br />#ThinkGoodGreen
